Home মির্যা কাদিয়ানী গোলাম আহমদ কাদিয়ানীর প্রকৃত দাবী কী ছিল?

গোলাম আহমদ কাদিয়ানীর প্রকৃত দাবী কী ছিল?

0
গোলাম আহমদ কাদিয়ানীর প্রকৃত দাবী কী ছিল?

মির্যা গোলাম আহমদ কাদিয়ানী (১৮৩৯-১৯০৮ ইং) এর প্রকৃত ‘দাবী কী ছিল? আর তিনি সেই দাবী কেন করলেন? বিস্তারিত তাদেরই অথেনটিক রচনাবলি থেকে সরাসরি জানতে পড়ুন!

এখানে তাদের অফিসিয়াল উর্দূ দৈনিক পত্রিকা আল ফযল (তারিখ: ২৮.১০.১৯১৫ ইং) থেকে সম্পূর্ণ একটি প্রবন্ধের বাংলা অনুবাদ তুলে ধরা হল। নিচে সাপোর্টিং স্ক্যানকপিও তুলে ধরা হয়েছে।

مسیح موعود محمدؐ است عِین محمدؐ است نمبر ۲
شہزادہ عبد اللطیف شہیدِ کابل کے آخری الفاظ

گذشتہ مضمون مندرجہ الفضل مورخہ ۱۷۔ ستمبر ۳۵ء میں میں نے بعض مفصل الہی بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود عالی جناب نام۔ کام۔ آمد مقام (مرتبہ) کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں۔ یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے۔ ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔ یا یوں کہو۔ کہ جیسا آنحضرتؐ کو پانچویں ہزار میں محمدیت کی چادر پہنائی گئی تھی۔ ویسا ہی آج مسیح موعود کو بھی بروزی طور پر وہی محمدیت کی چادر پہنائی گئی ہے۔ یا یوں کہو کہ مسیح موعود ایک ایسا آئینہ ہے جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔ یا یوں کہو کہ حضرت مسیح موعود ایک ایسا واسطہ ہے جس کے ذریعہ سے قوت اور جلال پھر ازسرنو دنیا پر ظاہر ہوا۔ الغرض ان تمام باتوں کا لب لباب وہی الفاظ ہیں۔

جو کہ میرے مضمون کے لئے اصل شاہراہ کا کام دے رہے ہیں یعنی یہ کہ مسیح موعود محمدؑ ہیں عِین محمدؑ ہیں اور جیسا کہ میں پہلے دو مضمونوں میں دو دلیلیں اس امر کی دے آیا ہوں۔ کہ واقعی حضرت مسیح موعود نام۔ کام اور مقام کے اعتبار سے عِین محمد ہیں۔ اور آپ کے عِین محمد ہونے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں۔ ایسا ہی اس میں اس مضمون میں تیسری دلیل دیتا ہوں۔ اور میرا خیال ہے کہ وہ تیسری دلیل بھی اپنی نوعیت میں اسی پایہ کی ہے کہ کوئی خدا ترس انسان اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ امر شاید وہ جہاں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پیش کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا وجود ایک کامل ظلیت کے ساتھ پیدا کیا جائے گا۔ تاکہ امین اور مجیب میں کوئی فرق درمیان نہ رہے چنانچہ آپ اس کے حق میں فرماتے ہیں:۔

“اسمُه کاسمِی یدفَنُ مَعِیَ فی قَبرِی”

یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمارے اس دعوے کی پوری تصدیق کر رہے ہیں۔ جو ہم نے پیش کیا ہے کہ مسیح موعود محمدؐ است عِین محمدؐ است۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔

جس کا کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختمِ نبوت کا ظلِ انداز نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ تم آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو۔ اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔ سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا ہے۔ یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہوگا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دورنگی نہیں آئی۔ (کشتی نوح ص۱۵)

اس حوالہ کو بغور پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ جن ظل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی حقیقت میں یہ راز مضمر ہے۔ کہ امین ظل اور اصل ایک ہی ہوتے ہیں گویا بظاہر دو نظر آتے ہیں لیکن در حقیقت وہ ایک ہی ہو۔ ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا کہ آپکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہرِ تام بنا کر لائیں اور آنحضرت صلعم میں اسقدر نفی غیریت اور شدتِ اتحاد کو کمال دیا کہ جیسے خاکسار مسیح موعود کا وجود خدا کے نزدیک آنحضرت صلعم کا ہی وجود ہو گیا۔ اور اس میں کوئی دورنگی یا مغائرت باقی نہ رہی۔ پس اس لحاظ سے مسیح موعود کا محمدؑ اور عِین محمدؑ صلعم ہونا پوری طرح متحقق ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود کا محمد صلعم ہونا آج نہیں ہوا بلکہ ابتدا سے ہی مقدر ہو چکا تھا۔ اور یہ ایک قرار یافتہ عہد تھا کہ آخری زمانہ میں آنحضرت صلعم کا ایک مظہرِ تام اور بروزِ کامل ظاہر ہو گا۔ جسکے ذریعہ محمدی جلال پھر دوبارہ دنیا میں چمک اٹھے گا۔ اور مرتبۂ زندہ ہو جائینگے۔ اور قرآنِ شریف سے دوبارہ نزول کرے گا۔ جیسا کہ مقدس نوشتوں میں لکھا ہے کہ وہ دھندھوگے اور دُودِ احد ہونگے اور دو بدر ہونگے جن کے ذریعہ اسلام ترقی پکڑنے گا۔ وہ خدا کے نوشته پورے ہوں پس حضرت مسیح موعود ہی وہ نور ہیں جس کا رسولؐ اللہ نے کے آخر میں آنا مقدر ہو چکا تھا۔ اور وہی نبی ہیں جس کا آنا سب سے آخر ہوا ہے اس لئے نہیں کہ وہ سوائے آنحضرتؐ صلعم کے بروزی وجود کے کسی اور حیثیت میں پیش کئے۔

کیونکہ آخری ہونا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شان ہے۔پس اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ظلّی طور پر آنحضرصلعم ہی کا تمام کمال یعنی نام، کام، اور مقام عنایت کیا تاکہاُس کا آنا کسی غیر کا آنا نہ سمجھا جائے بلکہ خود آنحضرتؐ کاہی آنا متصور ہو۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں بـ”میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں مگر بغیرکسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کےبلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پا کراور اسی میں ہو کر اور اسی کا مظہربن کر آیا ہوں

“پھر نام کے لفظ پر ٹوٹ دیکھیئے یوں تحریر فرماتے ہیں:

۔”یہ قول اس حدیث کے مطابق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنے والا مہدی اور مسیح میرا اسم پائے گا۔ اور کوئی نیا اسم نہیں لائے گا یعنی انکی طرف سے کوئی نیا دعوٰی نبوت و رسالت کا نہیں ہو گا۔ بلکہ جیسا کہ ابتداء سے قرار پا چکا ہے وہ محمدی نبوت کی چادر کو ہی ظلّی طور پر اپنے اوپر لے گا۔ اور اپنی زندگی اسی کے نام پر ظاہر کرے گا اور کبھی اسی کی قبر میں جائے گا۔ تا یہ خیال نہ ہو کہ کوئی علیحدہ وجود ہے اور یا علیحدہ رسول آیا۔ بلکہ بروزی طور پر وہی آیا۔ جو خاتم الانبیاء تھا۔ مگر ظلّی طور پر اسی راز کے لئے کہا گیا کہ مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں دفن کیاجائے گا۔ کیونکہ رنگ دُورنگی اسمیں نہیں آیا۔ پھر کیونکہ علیحدہ قبر میں تصور کیا جاوے”نزول المسیح ص

۳حضرت مسیح موعودؐ کے یہ الفاظ اپنی آپ ہی تشریح کر رہے ہیںپس حضرت مسیح موعودؑ کے عین محمدؐ ہونے پر یہ الفاظ کافیسے بڑھ کر روشنی ڈال رہے ہیں۔ اور صاف طور سے بتاتےہیں کہ اسوقت درحقیقت کوئی علیحدہ رسول یا نبی نہیں آیا۔بلکہ وہی آیا جو خاتم الانبیاء تھا۔ اور چونکہ خاتم الانبیاء کا آنا ہیجڑصورت بروزِ ناممکن اور محال ہے ورنہ تناسخ لازم آتا ہے

ہے۔ ورنہ روحانی حقیقت کے رو سے مسیح موعود در حقیقت محمد رسول اللہ صلعم ہی ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود آگے چل کر فرماتے ہیں:-”اس نکتہ کو یاد رکھو۔ کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں یعنی باعتبار نئی شریعت۔ نئے دعوے اور نئے نام کے۔ اور کہ میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کا ملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے“۔پھر اس کے آگے فرماتے ہیں:-”اور اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا۔ تو خدا تعالیٰ میرا نام محمدؐ اور احمدؐ اور مصطفےٰؐ اور مجتبےٰؐ نہ رکھتا۔ اور خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء کا مجھ کو خطاب دیا جاتا بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا۔

لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جاوے کہ میرا کوئی الگ نام ہو۔ یا کوئی الگ قبر ہو۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا“(حاشیہ نزول المسیح ص ۳)یہ تمام تحریریں کھلے کھلے طور پر حضرت مسیح موعود کے عین محمد صلعم ہونے پر ایک بدیہی شہادت دے رہی ہیں اور ہمیں کسی لفظ کے ہیر پھیر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ الفاظ خود اپنی دلیل ہیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ جب حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجود محمدی میں داخل کر دیا ہے اور یہاں تک بھی نہیں چاہا کہ آپ کا کوئی الگ نام ہو۔ یا کوئی الگ قبر ہو۔ تو پھر ہم کون ہیں جو مسیح موعود کو با وجود صادق ماننے کے اس فضیلت کا مستحق یقین نہ کریں۔ جسکو خدا اور خدا کے رسولؐ نے آپکے لئے مقرر کیا ہے۔

پس ہم نہایت ہی انشراح صدر سے اس بات پر یقین لاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود بروزی طور پر نہ تناسخ کے طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہیں جن کا آخری زمانہ میں آنا مقدر ہو چکا تھا۔ اور یہ کہ حضرت مسیح موعود واقعی وہی جامع جمیع کمالات محمدیہ نبوت ہیں جس کا آنا خدا کے مقدس نوشتوں میں ایک قرار یافتہ عہد کے طور پر درج ہے۔ اور آپ روحانی حقیقت کے اعتبار سے وہی حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو سرزمین حجاز میں اب سے ۱۳۰۰ برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ پس حضرت مسیح موعود کا اپنا کلام بھی ہم کو ان الفاظ پر پورا یقین لانے کے لئے صراحتہً مجبور کر رہا ہے جو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدؒ نے اپنی کمال معرفت حاصل کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ”در مسیح موعود محمدؐ است و عین محمدؐ است“.

خاکسار محمد سعید سعدی از لاہور

বাংলা অনুবাদ :

মসীহ মওউদ মুহাম্মদ (সা.)-এর হুবহু প্রতিচ্ছবি —

(সতর্কতা : এ প্রবন্ধে ‘প্রতিশ্রুত মসীহ’ বলে যত জায়গায় উল্লেখ আছে সবখানে গোলাম আহমদ কাদিয়ানীকে উদ্দেশ্য নেয়া হয়েছে, কেউ এটি হতে হযরত ঈসা আলাইহিসসালাম ভেবে ভুল করবেন না-অনুবাদক)।

দ্বিতীয় পর্ব কাবুলের শহীদ শাহজাদা আব্দুল লতিফের শেষ বাণীগত ১৭ সেপ্টেম্বর, ১৯৩৫-এর ‘আল-ফজল’ পত্রিকায় প্রকাশিত প্রবন্ধে আমি কিছু বিস্তারিত ঐশী বিষয়ের অকাট্য প্রমাণ উপস্থাপন করেছি। সেখানে দেখানো হয়েছে যে,

হযরত মসীহ মওউদের নাম, কাজ, আগমন ও মর্যাদা মূলত মহানবী হযরত মুহাম্মদ (সা.)-এরই অস্তিত্বের প্রকাশ। অথবা এভাবে বলা যায়, রাসূলুল্লাহ (সা.) যেভাবে পঞ্চম সহস্রাব্দে আবির্ভূত হয়েছিলেন, ঠিক একইভাবে এই যুগেও তিনি সমস্ত গুণাবলীসহ মসীহ মওউদের ‘বুরুজি’ (আধ্যাত্মিক প্রতিফলন) রূপে আবির্ভূত হয়েছেন। কিংবা অন্যভাবে বললে, রাসূলুল্লাহ (সা.)-কে যেভাবে পঞ্চম সহস্রাব্দে মুহাম্মদীয় চাদর পরানো হয়েছিল, আজ মসীহ মওউদকেও আধ্যাত্মিক দিক থেকে সেই একই মুহাম্মদীয় চাদর পরানো হয়েছে। অথবা মসীহ মওউদ হলেন এমন এক আয়না, যাতে মুহাম্মদীয় রূপ এবং মুহাম্মদীয় নবুওয়াতের পূর্ণ প্রতিফলন ঘটেছে। কিংবা বলা যায়, তিনি এমন এক মাধ্যম যার সাহায্যে (ইসলামের) শক্তি ও গৌরব পুনরায় পৃথিবীতে প্রকাশ পেয়েছে।

সংক্ষেপে, এই সমস্ত কথার মূল বিষয়বস্তু আমার পূর্বের প্রবন্ধের মূল ভিত্তি হিসেবে কাজ করছে; অর্থাৎ মসীহ মওউদ হলেন মুহাম্মদ (সা.) এবং তিনি তাঁরই হুবহু প্রতিচ্ছবি। আমি পূর্বের দুটি প্রবন্ধে এ বিষয়ে দুটি প্রমাণ দিয়েছি যে, মসীহ মওউদ নাম, কাজ এবং মর্যাদার দিক থেকে আসলেই মুহাম্মদ (সা.)-এর প্রতিচ্ছবি এবং এতে বিন্দুমাত্র সন্দেহের অবকাশ নেই। একইভাবে এই প্রবন্ধে আমি তৃতীয় প্রমাণটি দিচ্ছি।

আমার বিশ্বাস, এই তৃতীয় প্রমাণটি এমন স্তরের যে কোনো খোদাভীরু মানুষ এটি অস্বীকার করতে পারবেন না।

কারণ, এই বিষয়টি স্বয়ং খাতামুল আম্বিয়া হযরত মুহাম্মদ (সা.) নিজে উপস্থাপন করেছেন যে—

মসীহ মওউদের অস্তিত্ব একটি পূর্ণাঙ্গ ছায়া (জিল্লিয়াত) হিসেবে সৃষ্টি করা হবে, যাতে মূল ও ছায়ার মধ্যে কোনো পার্থক্য না থাকে। এই কারণেই তিনি তাঁর সম্পর্কে বলেছেন: “তার নাম হবে আমারই নাম এবং সে আমার কবরেই সমাহিত হবে।”এই শব্দগুলো আমাদের দাবির পূর্ণ সত্যতা নিশ্চিত করে, যা আমরা উপস্থাপন করেছি। এ প্রসঙ্গে হযরত মসীহ মওউদ নিজে বলেছেন:

“যে ব্যক্তি সম্পূর্ণভাবে নিজের মনিবের মধ্যে বিলীন (ফনা) হয়ে ঈশ্বরের কাছ থেকে ‘নবী’ উপাধি লাভ করে, সে ‘খাতমে নবুওয়াত’ (নবুওয়াতের সমাপ্তি)-এর মর্যাদাকে ক্ষুণ্ণ করে না। ঠিক যেমন আপনি আয়নায় নিজের চেহারা দেখলে আপনি দুজন হয়ে যান না, বরং একজনই থাকেন। যদিও আপাতদৃষ্টিতে দুজন মনে হয়, কিন্তু তা শুধু মূল এবং ছায়ার পার্থক্য। ঈশ্বর মসীহ মওউদের ক্ষেত্রে এমনটাই চেয়েছেন।

এটাই সেই রহস্য যার কারণে রাসূলুল্লাহ (সা.) বলেছেন যে— মসীহ মওউদ আমার কবরে সমাহিত হবে, যার অর্থ হলো সে মূলত আমিই এবং এতে কোনো দ্বিমুখী ভাব নেই।” (কিশতি-এ-নুহ, পৃষ্ঠা ১৫, লিখক গোলাম আহমদ কাদিয়ানী)।

এই উদ্ধৃতিটি মনোযোগ দিয়ে পড়লে বোঝা যায়, হযরত মসীহ মওউদ নিজেকে যে ‘ছায়া’ (জিল্ল) বলে দাবি করেন, তার আসল রহস্য এখানেই লুকিয়ে আছে। ছায়া এবং মূল মূলত একই অস্তিত্বের দুটি রূপ, যা আপাতদৃষ্টিতে দুটি মনে হলেও আসলে এক। ঈশ্বর মসীহ মওউদের মাধ্যমে এটাই চেয়েছেন যেন তাঁকে রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর একটি পূর্ণাঙ্গ প্রকাশ হিসেবে আনা হয়। রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর সাথে তাঁর আধ্যাত্মিক একাত্মতা ও মিলন এতখানি পূর্ণ ছিল যে, খোদার কাছে মসীহ মওউদের অস্তিত্ব স্বয়ং রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর অস্তিত্বেরই রূপ ধারণ করেছিল।

ফলে এতে কোনো ভিন্নতা বা পরকীয়া অবশিষ্ট থাকেনি।

অতএব, এই দিক থেকে মসীহ মওউদের মুহাম্মদ (সা.)-এর হুবহু প্রতিচ্ছবি হওয়ার বিষয়টি পুরোপুরি প্রমাণিত হয়। মসীহ মওউদের মুহাম্মদ (সা.) হওয়াটা আজকের কোনো আকস্মিক ঘটনা নয়, বরং এটি সৃষ্টির শুরু থেকেই নির্ধারিত ছিল। এটি একটি চিরন্তন প্রতিশ্রুতি ছিল যে, শেষ জমানায় রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর একটি পূর্ণাঙ্গ প্রকাশ এবং আধ্যাত্মিক প্রতিচ্ছবি আবির্ভূত হবে। যার মাধ্যমে মুহাম্মদীয় গৌরব পুনরায় পৃথিবীতে উজ্জ্বল হয়ে উঠবে এবং ইসলামের মর্যাদা পুনরুজ্জীবিত হবে। পবিত্র গ্রন্থসমূহে যেমনটি লেখা আছে, ইসলামের উন্নতির জন্য সমস্ত ঐশী বাণী পূর্ণ হবে। সুতরাং, হযরত মসীহ মওউদ হলেন সেই নূর (আলো) যার শেষ জমানায় আগমন নির্ধারিত ছিল। এবং তিনিই সেই নবী যার আগমন সবার শেষে সংঘটিত হয়েছে, তবে এ কারণে নয় যে তিনি রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর বুরূযী অস্তিত্বের বাহিরে আলাদা কেউ।

কারণ ‘সর্বশেষ হওয়া’ কেবল আমাদের প্রিয় নবী হযরত মুহাম্মদ (সা.)-এরই বৈশিষ্ট্য। তাই আল্লাহ তাআলা প্রতিশ্রুত মসীহকে ছায়াগত (জিল্লী) রূপে মহানবী (সা.)-এর সমস্ত পূর্ণতা—নাম, কর্ম ও মর্যাদা—দান করেছেন, যাতে তাঁর আগমনকে কোনো ভিন্ন ব্যক্তির আগমন বলে মনে না করা হয়; বরং যেন তা স্বয়ং রাসূলুল্লাহ (সা.)-এরই আগমন বলে প্রতীয়মান হয়।

এ প্রসঙ্গে প্রতিশ্রুত মসীহ (পুনরায় স্মরণ করিয়ে দিচ্ছি যে, এ প্রবন্ধের সব জায়গায় ‘মসীহ‘ বলে মির্যা কাদিয়ানী’কে বুঝানো হয়েছে-অনুবাদক) বলেন:

‘আমি তাঁরই রাসূল, অর্থাৎ প্রেরিত ব্যক্তি; তবে কোনো নতুন শরিয়ত, নতুন দাবি বা নতুন নাম নিয়ে নয়। বরং সেই মহান নবী, খাতামুন নবিয়্যীন-এর নাম লাভ করে, তাঁর মধ্যেই অবস্থান করে এবং তাঁরই প্রতিফলন হয়ে আমি আগমন করেছি।’

এরপর ‘নাম’ শব্দটির ব্যাখ্যা করতে গিয়ে তিনি লিখেছেন:

‘এই বক্তব্য সেই হাদিসের সঙ্গে সামঞ্জস্যপূর্ণ, যেখানে রাসূলুল্লাহ (সা.) বলেছেন যে, আগত মাহদী ও মসীহ আমার নাম ধারণ করবে এবং কোনো নতুন নাম নিয়ে আসবে না। অর্থাৎ তাদের পক্ষ থেকে নবুওয়ত বা রিসালাতের কোনো নতুন দাবি থাকবে না। বরং শুরু থেকেই যেমন নির্ধারিত ছিল, তিনি মুহাম্মদী নবুওয়তের চাদরকেই ছায়াগতভাবে নিজের ওপর ধারণ করবেন। তাঁর জীবনও সেই নামের অধীনেই প্রকাশ পাবে এবং অবশেষে তিনি সেই একই কবরেই সমাহিত হবেন। যেন কেউ এ ধারণা না করে যে, তিনি কোনো পৃথক সত্তা বা পৃথক রাসূল। বরং বুরূযী রূপে সেই ব্যক্তিই আগমন করেছেন, যিনি খাতামুন নবিয়্যীন ছিলেন। এই গোপন রহস্যের কারণেই বলা হয়েছে যে, প্রতিশ্রুত মসীহকে রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর কবরেই দাফন করা হবে। কারণ তাঁর মধ্যে কোনো দ্বৈততা বা ভিন্ন রং আসেনি। তাহলে তাঁকে পৃথক কবরের অধিকারী বলে কল্পনা করা হবে কেন?’ (নুযূলুল মসীহ, পৃ. ৩)।

প্রতিশ্রুত মসীহ-এর এই কথাগুলো নিজেরাই নিজেদের ব্যাখ্যা করে। এগুলো স্পষ্টভাবে তাঁর ‘মুহাম্মদ (সা.)-এর প্রতিচ্ছবি’ হওয়ার বিষয়টি তুলে ধরে এবং জানিয়ে দেয় যে, বাস্তবে কোনো পৃথক রাসূল বা নবী আগমন করেননি; বরং সেই ব্যক্তিই আগমন করেছেন, যিনি খাতামুন নবিয়্যীন ছিলেন।

অবশ্য খাতামুন নবিয়্যীন-এর সরাসরি পুনরাগমন বুরূয (বুরূযের সরল অর্থ ‘অবতার‘, গোলাম আহমদ কাদিয়ানী নিজেই এ মর্ম উদ্দেশ্য নিয়েছেন, দেখুন—রূহানী খাযায়েন: ২০/২২৯; অনুবাদক) ব্যতীত অসম্ভব ও অযৌক্তিক, কারণ তাতে পুনর্জন্মের (তানাসুখ) ধারণা আবশ্যক হয়ে পড়ে। কিন্তু আধ্যাত্মিক সত্যের বিচারে প্রতিশ্রুত মসীহ মূলত মুহাম্মদ রাসূলুল্লাহ (সা.)-এরই প্রতিফলন।

এ বিষয়ে তিনি আরও বলেন:

‘এই বিষয়টি স্মরণে রেখো যে, আমি নতুন শরিয়ত, নতুন দাবি ও নতুন নামের অর্থে রাসূল ও নবী নই। কিন্তু আমি রাসূল ও নবী—সম্পূর্ণ ছায়াগত (জিল্লিয়্যতে কামিলা) অর্থে। আমি সেই আয়না, যাতে মুহাম্মদী আকৃতি ও মুহাম্মদী নবুওয়তের পূর্ণ প্রতিফলন বিদ্যমান।’

তিনি আরও বলেন:

‘যদি আমি কোনো পৃথক ব্যক্তি হয়ে নবুওয়তের দাবি করতাম, তবে আল্লাহ তাআলা আমার নাম মুহাম্মদ, আহমদ, মুস্তফা বা মুজতবা রাখতেন না। আর খাতামুন নবিয়্যীনের ন্যায় আমাকে খাতামুল আওলিয়া উপাধি দেওয়া হতো। বরং আমি ভিন্ন কোনো নামে আসতাম। কিন্তু আল্লাহ তাআলা আমাকে প্রতিটি ক্ষেত্রে মুহাম্মদী সত্তার মধ্যে অন্তর্ভুক্ত করে দিয়েছেন। এমনকি তিনি এটাও চাননি যে, আমার কোনো আলাদা নাম বা আলাদা কবর থাকুক। কারণ ছায়া কখনো তার মূল সত্তা থেকে পৃথক হতে পারে না।’ (হাশিয়া, নুযূলুল মসীহ, পৃ. ৩)।

এই সমস্ত উদ্ধৃতি অত্যন্ত স্পষ্টভাবে সাক্ষ্য দেয় যে, প্রতিশ্রুত মসীহ নিজেকে মুহাম্মদ (সা.)-এর পূর্ণ প্রতিফলন ও ছায়াগত রূপ হিসেবে বর্ণনা করেছেন। এখানে কোনো শব্দের ব্যাখ্যা বা ঘুরিয়ে বলার প্রয়োজন নেই; বক্তব্যগুলো নিজেরাই নিজেদের প্রমাণ বহন করে।

চিন্তার বিষয় হলো, যখন আল্লাহ তাআলা প্রতিশ্রুত মসীহকে প্রতিটি বিষয়ে মুহাম্মদী সত্তার মধ্যে অন্তর্ভুক্ত করেছেন এবং তাঁর জন্য আলাদা নাম বা আলাদা কবরও পছন্দ করেননি, তখন আমরা কে যে, তাঁকে সত্যবাদী বলে বিশ্বাস করেও সেই মর্যাদার অধিকারী মনে করব না, যা আল্লাহ ও তাঁর রাসূল (সা.) তাঁর জন্য নির্ধারণ করেছেন?

অতএব আমরা সম্পূর্ণ প্রশান্তচিত্তে বিশ্বাস করি যে, প্রতিশ্রুত মসীহ বুরূযী অর্থে—পুনর্জন্মের অর্থে নয়—সেই খাতামুন নবিয়্যীন, যার শেষ যুগে আগমনের নিয়তি নির্ধারিত ছিল। এবং তিনি প্রকৃতপক্ষে মুহাম্মদী নবুওয়তের সমস্ত পূর্ণতার ধারক, যার আগমন আল্লাহর পবিত্র গ্রন্থসমূহে এক প্রতিশ্রুত অঙ্গীকার হিসেবে উল্লেখিত হয়েছে। আধ্যাত্মিক সত্যের বিচারে তিনি সেই মহান খাতামুন নবিয়্যীন, হযরত মুহাম্মদ রাসূলুল্লাহ (সা.), যিনি প্রায় ১৩০০ বছর আগে আরবের ভূমিতে জন্মগ্রহণ করেছিলেন।

অতএব প্রতিশ্রুত মসীহ-এর নিজের বক্তব্যও আমাদেরকে এসব কথার প্রতি পূর্ণ বিশ্বাস স্থাপনে বাধ্য করে। যেমন (মির্যায়ী মুরিদ) শহীদ হযরত সাহেবজাদা আবদুল লতীফ গভীর আধ্যাত্মিক জ্ঞান অর্জনের পর বলতেন:

“দর মসীহে মাওউদ, মুহাম্মদ অস্ত ও আইন মুহাম্মদ অস্ত।”

অর্থাৎ: “প্রতিশ্রুত মসীহের মধ্যে মুহাম্মদ (সা.) বিদ্যমান, বরং তিনিই মুহাম্মদ (সা.)-এর পূর্ণ প্রতিফলন।”

— প্রবন্ধকার, মুহাম্মদ সাঈদ সাদী, লাহোর।

সূত্রঃ আহমদীয়া জামাতের কেন্দ্রীয় অফিসিয়াল উর্দূ পত্রিকা ‘দৈনিক আল ফযল‘ (روزانہ الفضل), প্রকাশিত তারিখ ২৮.১০.১৯১৫, পাতা নম্বর ৩-৪, শিরোনাম : মসীহ মওউদ মুহাম্মদ (সা.)-এর হুবহু প্রতিচ্ছবি, সম্পাদক: মির্যাপুত্র বশির উদ্দীন মাহমুদ ও মির্যায়ী দ্বিতীয় খলীফা আহমদীয়া জামাত। কাদিয়ান (পাঞ্জাব, ভারত) দারুল আমান হতে প্রকাশিত।

বিজ্ঞ পাঠকবৃন্দ!

আহমদীয়া জামাতের অধিকাংশ অনুসারীই মির্জা গোলাম আহমদ কাদিয়ানীর প্রকৃত দাবিটি সম্পর্কে সুস্পষ্ট ধারণা রাখেন না। অনেকের কাছে মনে হতে পারে যে তাঁর মূল দাবি ছিল নবী, রাসূল, ইমাম মাহদী, প্রতিশ্রুত মসীহ কিংবা বুরূযী কৃষ্ণ হওয়া। কিন্তু গবেষকদের মতে, এসব ছিল তাঁর দাবির বিভিন্ন ব্যাখ্যা ও উপস্থাপনা; প্রকৃতপক্ষে তাঁর মূল দাবি ছিল নিজেকে হযরত মুহাম্মদ রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর দ্বিতীয় আগমনী সত্তা হিসেবে প্রতিষ্ঠা করা

যদিও আহমদীয়া মতবাদে এ বিষয়টিকে ‘জিল্ল’ বা ‘আধ্যাত্মিক প্রতিচ্ছবি’ হিসেবে ব্যাখ্যা করা হয়, তথাপি যখন বলা হয় যে আধ্যাত্মিক সত্যের বিচারে তিনি সেই মহান খাতামুন নবিয়্যীন হযরত মুহাম্মদ রাসূলুল্লাহ (সা.), যিনি প্রায় ১৩০০ বছর পূর্বে আরব ভূমিতে জন্মগ্রহণ করেছিলেন, তখন একজন নিরপেক্ষ ও সত্যসন্ধানী ব্যক্তির জন্য তাঁর প্রকৃত দাবির মর্মার্থ অনুধাবন করা কঠিন হওয়ার কথা নয়।

এখন প্রশ্ন হলো, গোলাম আহমদ কাদিয়ানী সাহেব বুরূযী মুহাম্মদ (সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম) হিসেবে পৃথিবীতে কেন এসেছিলেন? এ বিষয়ে তাঁর নিজের লেখনী থেকেই শুনুন—

“হযরত মুহাম্মদ (সা.)-এর যুগে মিডিয়া না থাকার কারণে তাঁর দ্বারা দ্বীনের প্রচারের কাজ পূর্ণাঙ্গভাবে সম্পন্ন হয়নি। তিনি পূর্ণ প্রচার করতে পারেননি। আমি তাঁর বুরূযী রঙ্গে (অর্থাৎ তাঁর প্রতিরূপ বা অবতাররূপে) এসে সেই অসম্পূর্ণ কাজগুলো পূর্ণ করেছি।”
(রূহানী খাযায়েন, খণ্ড ১৭, পৃষ্ঠা ২৬৩; সারমর্ম)

এই বক্তব্য অনুযায়ী গোলাম আহমদ কাদিয়ানী দাবি করছেন যে, তিনি বুরূযী মুহাম্মদ (সা.) হিসেবে আগমন করে রাসূলুল্লাহ (সা.)-এর অসম্পূর্ণ বলে অভিহিত করা কাজসমূহ সম্পন্ন করেছেন। ইসলামী আকীদার দৃষ্টিতে এ ধরনের দাবি অত্যন্ত আপত্তিকর ও গ্রহণযোগ্য নয়। নাউযুবিল্লাহ।

— প্রিন্সিপাল নূরুন্নবী। 01629-941773 WhatsApp, Telegram

(প্রামাণ্য স্ক্যানকপি)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here